• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہاس نگر میونسپل کارپوریشن میں بڑا سیاسی الٹ پھیر

Updated: January 19, 2026, 11:19 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

ونچت بہوجن اگھاڑی کے ۲ ؍کارپوریٹروں نے شیوسینا (شندے)کی حمایت کی۔سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود بی جے پی پیچھے ہوگئی

Two corporators of Vanchit Bahujan Aghadi handing over a letter of support to Eknath Shinde in Mumbai.
ونچت بہوجن اگھاڑی کے ۲؍کارپوریٹرس ممبئی میں ایکناتھ شندے کو اپنی حمایت کا مکتوب دیتے ہوئے۔(تصویر: انقلاب)

ریاست میں میونسپل کارپوریشن کے  انتخابات کے نتائج کے بعد اب شہر کی باگ ڈور سنبھالنے کیلئے سیاسی بساط بچھنا شروع ہوگئی ہے۔ الہاس نگر میونسپل کارپوریشن  میں کسی بھی ایک پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے اور اب میئر کی کرسی حاصل کرنے کیلئے گھوڑدوڑ اور جوڑ توڑ کی سیاست عروج پر پہنچ گئی ہے۔شہر میں جاری سیاسی رسہ کشی  میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب ونچت بہوجن اگھاڑی کے ۲؍ نو منتخب کارپوریٹرس نے غیر متوقع طور پر شیوسینا( شندے) کو اپنی حمایت دینے کا اعلان کر دیا۔ اس نئی سیاسی پیش رفت کے بعد کارپوریشن میں   شیو سینا( شندے) کا میئر بننے کی راہ ہموار نظر آرہی ہے جبکہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود بی جے پی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔
  الہاس نگرمیونسپل کارپوریشن انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالیں تو بی جے پی ۳۷ ؍نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہےلیکن وہ اکثریت کیلئے درکار جادوئی عدد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ دوسری جانب شیو سینا (شندے) نے ۳۶ ؍نشستیں جیتی  ہیں۔ بعد ازاں مقامی حلیف جماعت سائی پکش کے ایک اور ایک آزاد امیدوار کی حمایت حاصل کر کے شیو سینا کی تعداد ۳۸ تک پہنچ گئی ہے۔ اب ونچت بہوجن اگھاڑی کے ۲؍کارپوریٹروں کے اس ساتھ آ جانے سے شیو سینا نے اکثریت کا ہندسہ عبور کر لیا ہے جس نے بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔
شیوسینا (شندے) کی حمایت کی وجہ
 ونچت بہوجن اگھاڑی  کےکارپوریٹر سریکھا سوناونے اور وکاس کھرات نے شیو سینا کی حمایت کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے متعلقہ حلقوں کی تعمیر و ترقی کے وسیع تر مفاد میں لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دلت بستی سدھار یوجنا (پسماندہ بستیوں کی فلاحی اسکیم) اور دیگر مقامی ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کروانے کیلئے اقتدار میں شامل ہونا ناگزیر تھا۔ 
 حمایت کا  باضابطہ  اعلان ممبئی میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوا۔ مذکورہ دونوں کارپوریٹرس نے ایکناتھ شندے سے ملاقات کی اور انہیں اپنی حمایت کا مکتوب سونپا۔ اس موقع پر کلیان کے رکن پارلیمان ڈاکٹر شری کانت شندے، رکن اسمبلی ڈاکٹر بالاجی کنیکر اور دیگر سینئرلیڈران بھی موجود تھے۔
 سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اعلیٰ قیادت کی موجودگی میں ہونے والی اس پیش رفت نے الہاس نگر کی مقامی سیاست میں شیو سینا(شندے) کی پوزیشن کو انتہائی مستحکم کر دیا ہے۔
سیاسی صورتحال اور عددی طاقت 
 الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کی کل ۷۸ ؍ سیٹوں کیلئے انتخابات میں بی جے پی ۳۷ ؍نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی پارٹی  ہے جبکہ شیوسینا (شندے ) کو ۳۶ ؍نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ ایوان میں اکثریت ثابت کرنے اور اپنا میئر منتخب کرانے کیلئے کسی بھی پار ٹی کو ۴۰ ؍ کارپوریٹروں کی حمایت درکار ہے۔ چونکہ دونوں ہی بڑی پارٹیاں اکثریت کے ہندسے سے چند قدم دور ہیں اس لئے آزاد اور چھوٹی پارٹیوں کے کارپوریٹروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
شندے گروپ کی پہلی کامیاب چال 
 اسی سیاسی رسہ کشی  کے درمیان نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے گروپ نے پہلا بڑا داؤ کھیلتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی کے خیمے میں سیندھ لگا دی ہے۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ۲؍ کارپوریٹروں نے شندے سینا کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ 
  ونچت بہوجن اگھاڑی کے ۲؍ کارپوریٹرس کی حمایت کے بعد شندے گروپ کی کل طاقت اب ۳۸ ؍ہو گئی ہے لیکن میئر بنانے کیلئے اب بھی انہیں مزید ۲ ؍ کارپوریٹروں کی ضرورت ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ مقامی سائی پکش نامی پارٹی کے ایک کارپوریٹر اور ایک آزاد امیدوار نے بھی شیوسینا( شندے) کو حمایت دی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی  بھی خاموش نہیں ہے اور وہ بھی اکثریت کیلئے تگ و دو کر رہی ہے۔
  سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن الہاس نگر کی سیاست کیلئے انتہائی اہم ہیں کیونکہ دونوں ہی  پارٹیاں آزاد کارپوریٹروں اور دیگر چھوٹی پارٹیوں سے رابطہ کر رہی ہیں۔اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا عددی جوڑ توڑ بازی لے جائے گا یا کوئی غیر متوقع سیاسی چال پورے منظرنامے کو بدل دے گی ۔ دیکھنا ہوگا کہ الہاس نگر کا  میئر کس  پارٹی کا ہو گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK